مردوں کو اہم زریں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 25

مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 5

خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (5) سر براہ ہونے کا حق اس طرح ادا کیا کہ پہلے یہ احساس دلوایا کہ تمہاری ذمہ داری توحید کا قیام ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نفل کیلئے اٹھتے تھے اور پھر صبح نماز سے کچھ پہلے ہمیں پانی کے چھینٹے مارکر اٹھاتے تھے کہ نفل پڑھو۔عبادت کرو۔اللہ تعالیٰ کے وہ حق ادا کرو جو اللہ تعالیٰ کے حق ہیں۔( بخاری کتاب الوتر باب ایقاظ النبی سالانیا ایتم اھلہ بالوتر حدیث 997) ( سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب قيام الليل حديث 1308) پھر آپ اپنے گھر والوں کے حق ادا کس طرح فرماتے تھے؟ وہ کام جو بیویوں کے کرنے والے تھے ان میں بھی آپ ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہ ہی فرماتی ہیں کہ جتنا وقت آپ گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے تھے یہاں تک کہ آپ کو نماز کا بلاوا آتا اور آپ مسجد تشریف لے جاتے۔(صحیح البخاری کتاب الاذان باب من كان في حاجة اصله۔۔۔۔الخ حدیث 676) پس یہ ہے وہ اُسوہ جو ہم نے اپنانا ہے اور ہمیں اپنانا چاہئے۔نہ کہ بیویوں سے ایسا سلوک جو ظلم کے مترادف ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے گھریلو کاموں کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے مزید فرماتی ہیں کہ اسی طرح آپ اپنے کپڑے بھی خودی لیتے تھے۔جوتے ٹانک لیا کرتے تھے۔گھر کا ڈول وغیرہ مرمت کر لیا کرتے تھے۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب مواقيت الصلاة باب من كان في حاجة اصله۔۔۔۔الخ حديث 676 جلد 5 صفحہ 298 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) پس ان نمونوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے خاوندوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے