مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 6
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (6) اور اس پر توجہ دینی چاہئے کہ کیا ان کے گھروں میں یہ سلوک ہیں؟ یہ روتے ہیں؟ اپنے صحابہ کو خاوند کے فرائض اور اس کے رویے کے معیار کے بارے میں ایک موقع پر فرمایا جو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مومنوں میں سے کامل الایمان وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں اور تم میں سے خلق کے لحاظ سے بہترین وہ ہے جوا اپنی عورتوں کے لئے بہتر ہے۔(سنن الترمذی ابواب الرضاع باب ما جاء فی حق المرأة على زوجها حديث 1162) پس ہر اس شخص کو جس کا اپنی بیویوں سے اچھا سلوک نہیں ہے جائزہ لینا چاہئے کہ اچھے اخلاق اور بیویوں سے اچھے سلوک کا مظاہرہ صرف ظاہری اچھا خُلق نہیں ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ ایمان کے معیار کی بلندی کی بھی نشانی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاوند کے فرائض اور بیویوں سے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں اور فرمایا کہ ”ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے۔درحقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکریہ یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کا ذکر ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے ( بڑا) سختی سے پیش آتا ہے۔حضور علیہ السلام اس بات سے ( بہت رنجیدہ ہوئے ) بہت کبیدہ خاطر ہوئے۔اور فرمایا ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے۔پھر تحریر کرنے والے لکھتے ہیں کہ اس کے بعد حضور علیہ السلام بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارے ( میں ) گفتگو فرماتے رہے۔اور آخر پر فرمایا کہ ”میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی