مردوں کو اہم زریں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 25

مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 4

خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (4) گھر کا سر براہ سمجھ کر، یہ سمجھتے ہوئے کہ میں گھر کا سر براہ ہوں اور بڑا ہوں اور میرے سارے اختیارات ہیں، نہ اپنی بیوی کا احترام کرتا ہے اور اسے جائز حق دیتا ہے، نہ ہی اولاد کی تربیت کا حق ادا کرتا ہے۔صرف نام کی سر براہی ہے۔بلکہ ایسی شکایات بھی ہندوستان سے بھی اور پاکستان کی بعض عورتوں کی طرف سے بھی ہیں کہ خاوندوں نے بیویوں کو مار مار کر جسم پر نیل ڈال دیئے یا زخمی کر دیا۔منہ سوجا دیئے۔بلکہ بعض لوگ تو ان ملکوں میں رہتے ہوئے بھی ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں۔پھر بچوں اور بچیوں پر ظلم کی حد تک بعض باپ سلوک کر رہے ہوتے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد بھی جاہل لوگوں کی طرح ہی رہنا ہے، ان مسلمانوں کی طرح رہنا ہے جن کو دین کا بالکل علم نہیں ہے، اپنے بیوی بچوں سے ویسا ہی سلوک کرنا ہے جو جاہل لوگ کرتے ہیں تو پھرا اپنی حالتوں کے بدلنے کا عہد کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔کیا مرد جو خدا کا حق ادا کرنے کی ان پر ذمہ داری ہے اور جو عملی حالت کے معیار بلند کرنے کی ان پر ذمہ داری ہے اسے ادا کر رہے ہیں؟ اگر وہ اسے ادا کر رہے ہوں تو پھر یہ ہوہی نہیں سکتا کہ کبھی ان کے گھروں میں ظلم ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سب سے پہلے گھر کے سر براہ ہونے کی حیثیت سے تو حید کے قیام کی اہمیت اپنے بیوی بچوں پر واضح فرما کر اس پر عمل کروایا لیکن یہ کام بھی پیار اور محبت سے کروایا۔ڈنڈے کے زور پر نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو گھر کے سر براہ ہونے اور دنیا کی اصلاح اور شریعت کے قیام کی تمام تر مصروفیات ہونے کے باوجود اپنے گھر والوں کے حق ادا کئے اور پیار اور نرمی اور محبت سے یہ حق ادا کئے۔گھر کا