مردانِ خدا — Page 63
مردان خدا ۶۳ حضرت شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب حضور نے لکھا کچھ دیر توقف کرو ہند و عورتیں عموماً وفادار ہوتی ہیں اپنی اہلیہ کو دعوت الی اللہ ) کرو اور اس کو بھی اپنے ساتھ لانے کی کوشش کرو۔اس ارشاد کی تعمیل میں کچھ عرصہ اور رکا رہا۔اپنی بیوی کو ( دین حق ) قبول کرنے کیلئے رضا مند کرنے کی کوشش کرتا رہا۔مگر میری والدہ اور خاندان کے دوسرے لوگ اسے ورغلا لیتے اور کہتے کشن لعل محض تمہاری خاطر رُکا ہوا ہے اگر تم نے کمزوری دکھائی اور اس کا ساتھ دیا تو وہ (احمدی) ہو جائے گا۔میں نے سوچا اس ماحول میں رہتے ہوئے اس کا (احمدی ) ہونا مشکل ہے کسی طرح اس کو ان سے الگ کرنا چاہئے۔چنانچہ میں اس کوشش میں کامیاب ہو گیا اور ایک دوسرے مکان میں اپنی بیوی بچوں کو لیکر الگ ہو گیا۔وہاں جا کر وہ (احمدی) ہونے کیلئے آمادہ ہوگئی۔چنانچہ ایک تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن چند روز کی رخصت لیکر قادیان جائیں گے اور مشرف بہ ( دین حق ) ہوں گے۔لیکن بعد میں نہ معلوم کیا ہوا اس نے پھر کمزوری دکھائی۔ادھر مجھ سے قادیان چلنے کا وعدہ کیا دوسری طرف پوشیدہ طور پر اپنے والد کو پیغام بھیجوا دیا کہ فلاں دن کشن لعل (احمدی) ہونے کے لئے قادیان جائے گا اور مجھ کو بھی ہمراہ لے جانا چاہتا ہے۔اگر اس کو بچانا ہے تو آ جاؤ۔جس صبح ہم نے قادیان کے لئے روانہ ہونا تھا اس سے قبل کی شام کو میرے خسر جو کہ ایک دوسرے قصبہ میں رہتے تھے جو بارہ میل کے فاصلہ پر تھا یہاں آگئے جس وقت وہ ہمارے مکان میں داخل ہوئے میں نے دیکھا کہ وہ ہانپ رہے تھے اور ان کے گھٹنے لرزتے تھے شاید غصہ اور رنج کی وجہ سے ان کی یہ حالت تھی۔میں ان کی یہ حالت دیکھ کر سمجھ گیا کہ خیر نہیں۔ان کو ضرور کسی نہ کسی طرح ہمارے عندیہ سے آگا ہی ہوگئی ہے۔انہوں نے مجھ سے کلام نہیں کی اور سیدھے اندر چلے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ انہوں نے میرے لڑکے کو اٹھایا ہوا ہے اور میری بیوی کو ساتھ لیکر جا رہے ہیں۔میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہاں چلی ہو؟ اس نے کہا میں مسلمان نہیں ہو سکتی۔جس دھرم میں میرے والد صاحب رہیں گے اسی میں