مردانِ خدا

by Other Authors

Page 79 of 97

مردانِ خدا — Page 79

مردان خدا و حضرت مولوی عبد اللہ بوتالوی صاحب اس طرح پر ہیں۔فرماتے ہیں:۔”انہوں نے ایک جمعہ کے دن میری عدم موجودگی میں قریب کے ایک گاؤں کوٹ بھوانی داس سے ایک اہل حدیث مولوی احمد علی کو بلوایا اور گاؤں کے باہر کھلی جگہ میں کئی ایک دیہات کے لوگوں کو اکٹھا کر کے بھاری مجمع کے ساتھ مولوی مذکور سے جمعہ پڑھوایا۔اثناء وعظ میں اس مولوی نے لوگوں کو علماء اسلام کا ایک مطبوعہ فتویٰ پڑھ کر سنایا اور اخیر پر مولویوں کی مہریں لگی ہوئی دکھلا کر کہا کہ دیکھو جس شخص پر اس قدر مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا ہو وہ یا اس کی پیروی کرنے والا کب مسلمان ہوسکتا ہے۔یہ کہ کر لوگوں کو پیغام سلام کے ترک کرنے کی تاکید کی اور ہر طرح کے تعلقات قطع کر دینے کا فیصلہ سنا دیا۔جب میں شام کو گاؤں میں واپس آیا تو میں نے سب لوگوں کے طور بدلے ہوئے دیکھے اور جن لوگوں کے ساتھ آباء واجداد سے ہمارے گہرے تعلقات رہ چکے تھے ان کی آنکھیں بھری ہوئی ملاحظہ کیں۔ہمارا پانی بھرنے والے ماشکیوں کو پانی بھرنے سے روک دیا گیا اور ہر طرح کا بائیکاٹ کر کے تکلیف دینا چاہی۔حتی کہ ایک دن جب کہ میں کہیں باہر گیا ہوا تھا گاؤں کے چند معتبر اشخاص کا ایک مجمع ہمارے گھر پر آیا اور ہماری ڈیوڑھی میں بیٹھ کر اندر سے میری والدہ صاحبہ مرحومہ کو بلایا وہ دروازے کے نزدیک آ کر کھڑے ہو گئے۔ان میں سے ایک شخص جو ہم پر بہت امید رکھتا تھا یوں گویا ہوا۔بے بے جی ! آپ کے خاندان کا ہمیں بہت لحاظ ہے لیکن آپ کے بیٹے نے پرانے طریقے کو چھوڑ کے نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔وہ آپ کی بہت مانتا ہے۔اس لئے ہم آپ کو کہتے ہیں کہ آپ اسے سمجھا ئیں اور اسے باز رکھیں۔اس پر میری والدہ صاحبہ نے نہایت جرات اور دلیری سے جواب دیا کہ اگر میرا بیٹا کوئی عیب کرے یا اس میں کوئی برائی پیدا ہوگئی ہو تو میں اس کو روک سکتی ہوں۔لیکن مجھے اس کے عقیدے اور عمل میں کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی۔اس لئے میں کیوں اس کو منع کروں۔اب تو جدھر اس کا راستہ ہے اُدھر ہی ہمارا راستہ ہے۔یہ کھرا کھرا جواب سن -