مردانِ خدا — Page 80
مردان خدا حضرت مولوی عبد اللہ بوتالوی صاحب کر وہ سب اپنا سا منہ لے کر واپس چلے گئے اور یہ لفظ کہتے ہوئے باہر نکلے کہ مائی تو بڑی پکی ہے۔غرضیکہ اس کے بعد لوگوں کے مقاطعہ سے میرے دل کو بہت صدمہ ہوا۔گو ظا ہری طور پر تو میرا وہ کوئی نقصان نہ کر سکے اور نہ ہی مجھے کوئی تکلیف دے سکے۔لیکن دوستوں اور آشناؤں کا خشک اور روکھا سلوک میرے جذبات کو بہت ہی صدمہ پہنچانے کا موجب ہوا اور میں ہر وقت اسی سوچ بچار میں افسردہ خاطر رہتا تھا کہ الہی یہ کیا ماجرا ہے۔کیا تھا اور کیا ہو گیا۔چنانچہ اسی افسردگی اور پژمردگی کی حالت میں سخت اداس ہو کر میں نے اپنے بڑے چچا مولوی احمد الدین صاحب کو جو بھیرہ ضلع شاہ پور میں مدرس تھے اور جو میرے خسر بھی تھے ایک خط لکھا اس میں میں نے چند پنجابی اشعار میں اپنے دردِ دل کا حال ظاہر کیا۔جان بچاری کرماں ماری دکھاں دے منہ آئی میں غم کھانواں غم مینوں کھاوے فرق نہ اس وچ کائی روز ازل توں اللہ کولوں قسمت ایہو لکھائی حمد یاں نال غماں دی گڑھتی دائی گھول پلائی یارا نے غم خوار تمامی چھوڑ گئے آشنائی جنہوں بلانواں میری طرفوں جاندا کنڈ بھنوائی میں ہرگز نال کسی دے رہا کیتی نہیں برائی پر اینویں جانی دشمن بن گئے رب دی بے پرواہی جد کی تاج مبارک میرے کیتی سروں جدائی تختوں لیہہ کے وختاں اندر عاجز جندڑی آئی ( رفقاء احمد : جلد : ۷ صفحه : ۱۷۶ تا ۱۷۸)