مردانِ خدا — Page 2
مردان خدا حضرت سید عبد اللطیف صاحب پیدا ہوئے۔آپ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی اولاد میں سے تھے۔آپ کے بزرگ ہندوستان سے ہجرت کر کے افغانستان جا کر آباد ہوئے تھے۔آپ کا خاندان بہت بڑی جائیداد کا مالک تھا جو کہ قریباً تمیں ہزار ایکڑ تھی۔آپ کا گھرانہ دینی گھرانہ تھا اور سارے علاقے میں ان کے علم دین کی شہرت تھی۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے حصول علم کے لئے ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔کئی سال مختلف علماء سے کسب علوم کیا اور پھر واپس جا کر اپنے گاؤں میں قرآن اور حدیث کا درس شروع کیا۔آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔آپ نے اپنے طالب علموں کے لئے رہائش اور کھانے کا باقاعدہ بندوبست کیا ہوا تھا۔آپ بہت بڑے عالم تھے۔آپ کی اپنی لائبریری تھی جس میں دینی علوم پر مشتمل ہر قسم کی ضروری کتب موجود تھیں۔امیر عبدالرحمن جب افغانستان کا بادشاہ تھا تو اس نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی علمی شہرت سن کر آپ کو ملاقات کیلئے کا بل بلوایا۔جب آپ سے ملاقات ہوئی تو وہ آپ کے علمی مقام اور آپ کے وقار سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنے ملک میں مذہبی مشوروں کیلئے آپ کو مشیر اور اپنے بیٹے حبیب اللہ خان کا استاد مقرر کیا۔بعد میں بادشاہ کے کہنے پر آپ نے اپنے بیوی بچے بھی خوست سے کابل بلوا لئے اور یہیں رہنے لگے۔جب افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمن فوت ہوئے تو حضرت صاحبزادہ صاحب کے مشورے پر ہی امیر حبیب اللہ خان کو تخت پر بٹھانے کا فیصلہ ہوا تھا اور ۳۔اکتو بر ۱۹۰۲ کو امیر حبیب اللہ خان کی رسم تاجپوشی آپ ہی کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔اس سے حضرت صاحبزادہ صاحب کے علمی اور ظاہری مقام کا اندازہ ہوتا ہے کہ کس اعلیٰ مقام پر آپ فائز تھے اور آپ کی کیا شان تھی۔واعظ و ملا و صوفى و فقي لیک خونش ریخت یک قوم سفیه ۱۸۹۴ ء کی بات ہے کہ افغانستان اور ہندوستان کی سرحدوں کی تعیین کے سلسلہ میں ایک وفد افغانستان سے پشاور آیا تو اس وفد میں حضرت صاحبزادہ صاحب بھی شامل تھے۔اسی