مردانِ خدا

by Other Authors

Page 59 of 97

مردانِ خدا — Page 59

مردان خدا ۵۹ حضرت بھائی جی عبد الرحمن صاحب قادیانی ہدایت فرمائی تھی نرمی اور حکمت سے میں نے سمن کا نیا مانگا اور حاضری کی تاریخ پوچھی۔مگر میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب مجھے تاریخ حاضری کا علم ہوا۔میری جان میں جان آگئی کیونکہ جس تاریخ کے لئے مجھ پر سمن کی تعمیل کرائی گئی تھی وہ تاریخ دو دن ہوئے گذر بھی چکی تھی۔میں نے جھٹ اپنے دستخطوں کے نیچے وصولی سمن کی تاریخ درج کر دی اور خود حضرت اقدس کے حضور حاضر ہو کر معاملہ عرض کیا۔جس پر حضور تبسم فرماتے اور یہ فرماتے ہوئے اچھا ہوا اور بہت اچھا ہوا اندر تشریف لے گئے اور اس طرح محض حضور کی توجہ کے طفیل سے وہی بات ہوئی کہ :۔گیا۔رسیده بود بلائے ولے بخیر گذشت پھر نہ کبھی کوئی سمن آیا نہ مجھے کسی نے طلب کیا نہ معلوم کیا تھا اور وہ معاملہ کدھر چلا فیصلہ کن قدم۔والدہ کو خط ان آئے دن کے جھگڑے بکھیڑوں ، افراتفری اور کشمکش سے تنگ آ کر آخر میں نے اس قضیہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دینے کی تجاویز سوچنا شروع کیں کیونکہ مجھے اپنی ذات میں نت نئے فتنوں کی وجہ سے بے اطمینانی اور تشویش رہا کرتی۔والدین کی بربادی اور ان کے مال و منال کے ضیاع کا خیال بھی ستایا کرتا تھا۔والدین اور رشتہ داروں کے ایسے حملوں اور کوششوں سے مجھے اپنی کمزوریوں کا بھی احساس ہونے لگا اور خیال پیدا ہوا کہ کوئی نہ کوئی نقص ضرور مجھ میں ہے ورنہ دشمن کو مایوس ہوکر ہمیشہ کے لئے مجھ سے نا امید ہو جانا چاہئے تھا۔چنانچہ سوچ بچار اور دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ جب تک شیطان بالکل مایوس اور نا امید نہیں ہو جائے گا میں خطرہ سے باہر نہ نکل سکوں گا اور حقیقی اطمینان اور تسلی میسر نہ آئے گی۔لہذا میں نے ایک مفصل خط علیحدہ والدہ صاحبہ