مردانِ خدا — Page 58
مردان خدا ۵۸ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی سازیوں کی نذر کیا اور کس کس کی در پردہ ناصیہ فرسائی کرتے پھرے جس کے نتیجہ میں ایک روز اچانک ایک مذکوریا میرے نام کا ایک سمن لئے میری تلاش میں کو بکو پھرا کیا اور آخر میرے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جب کہ میں ( بیت ) اقصی سے ڈیرے کو جا رہا تھا۔اس نے مجھے سمن دکھا کر دستخط کرنے کا تقاضا کیا۔میرے لئے عمر بھر میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ سرکاری کاغذ میرے نام آیا۔کچھ گھبراہٹ تھی کچھ عیار مذکورے کا تقاضا۔آؤ دیکھا نہ تاؤ قلم دوات مذکورئے چپراسی ساتھ رکھا کرتے تھے نکال کر سامنے کی اور میں نے اطلاع یابی کر دی بلکہ الفاظ بھی وہی لکھے جو مذکورئے نے لکھائے۔مجھے یہ بھی تو علم نہ تھا کہ یمن کا شنی مجھے لینا چاہئے جو کچھ ہوا اس میں پہلی بعض افواہوں اور اخبار کا بھی اثر و دخل تھا۔سوجھی تو صرف یہ کہ سیدھا اپنے آقائے نامدار سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے در پر جا کر دستک دی۔دریافت پر اپنا نام عرض کیا اور حضور پر نور بہ نفس نفیس دروازہ پر تشریف لے آئے۔نہایت ہی لطف وکرم سے بات پوچھی جو میں نے لرزتے کانپتے عالم پریشانی ہی میں عرض کر دی۔حضور نے توجہ سے سن کر نہایت ہی محبت آمیز لہجہ میں فرمایا ( ایک لمحہ بھر کے وقفہ کے بعد ) ”میاں عبدالرحمن آپ نے سمن کو پڑھا بھی تھا کہ کس مقدمہ میں حاضری مطلوب ہے اور کس تاریخ کو پیشی ہو گی ؟“ حضور نہیں میں نے عرض کیا اور حضور مجھے تو سمن اور مقدمہ کے نام سے ایسی گھبراہٹ ہوئی کچھ سمجھا نہ بوجھا اور جو کچھ اس نے کہا میں نے لکھ کر دے دیا۔فرمایا۔”میاں عبدالرحمن غلطی ہوئی ہے جلد جاؤ اور اس کو تلاش کر کے تاریخ حاضری تو معلوم کرلو۔بہت اچھا حضور عرض کر کے میں گلی بازاروں میں اس چپڑاسی کی تلاش کرنے لگا اور آخر کم و بیش دو گھنٹہ کی تلاش اور سرگردانی کے بعد وہ مجھے مل گیا اور جس طرح حضور نے