مردانِ خدا

by Other Authors

Page 56 of 97

مردانِ خدا — Page 56

مردان خدا ۵۶ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی اظہار کئے بغیر چارہ نہ رہا اور آخر فیصلہ پنڈت لیکھرام والی پیشگوئی پر منحصر ٹھہرا جوا بھی تک پیشگوئی کی معیاد کے اندر حالت انتظار میں تھا۔چوہدری نتھو رام صاحب نے اس رنگ میں بھی دال گلتی نہ دیکھی تو اپنا آخری اور اوچھا ہتھیار نکالا اور میری غیرت اور حمیت کو چیلنج کیا۔جذبات کو اپیل کی اور تانبے پیتل اور کانسی کے برتنوں ، مٹی کے لوٹے ٹھوٹھے اور کنالیوں کے طعن دینے شروع کر دیے۔کہیں مسلمانوں کی موجودہ بد عملی ، خستہ حالی اور افلاس وغربت کے تذکرے اور ہند واقوام کی بڑائی و مالی برتری کے افسانے سنا سنا کر مجھے جوش دلانے کی کوشش کی اور کبھی خاندانی شوکت وسطوت اور بڑے بوڑھوں کے کارنامے سنا سنا کر شرم دلانے کی راہ اختیار کی اور انجام کا رجب دیکھا کہ ان کے سارے حیلے بے اثر اور سارے حربے بے کار رہے تو یہ کہتے ہوئے مجھ سے رخصت ہو گئے کہ ہٹیاں با ہیں گل نوں ای آندیاں ہین ، یعنی (احمد یوں ) نے جو سبز باغ تمہیں دکھا کر ورغلایا ہے اور جھوٹے وعدے دے کر اغوا کر لیا ہے چند روز میں ان کی حقیقت تم پر کھل جائے گی۔تب تمہاری آنکھیں کھلیں گی۔ابھی چونکہ نئے نئے اس جال میں پھنسے ہو۔آؤ بھگت ہو رہی ہے۔زیادہ عرصہ نہ گذرے گا کہ یہ نشہ اتر جائے گا اور تم سمجھو گے کہ کسی خیر خواہ کی نصیحت کو کس طرح رد کیا اورٹھکرایا تھا۔دیکھو پھر کہتا ہوں کہ ڈھلیاں بیراں دا اجے دی کچھ نہیں گیا‘ مان لو بھلا ہوگا ورنہ پچھتاؤ گے۔میرے مکرم ایسے ہی الفاظ کہتے ہوئے مجھ سے جدا ہونے کو کھڑے ہو گئے۔اگر چہ میرا دل نرم تھا اور ان کے ادب کا بھی مجھے پاس تھا مگر ان کے آخری حملہ کو بے جواب چھوڑنے کو میں نے بے غیرتی اور دون ہمتی یقین کرتے ہوئے خاموش رہنا برداشت نہ کیا اور جاتے جاتے مخاطب کر کے بصد ادب عرض کر ہی دیا کہ:۔اگر یہ دل صرف اور صرف خدا کے لئے آپ لوگوں سے جدا ہوا ہے تو یقیناً وہ ان بازوؤں کو نہ ٹوٹنے دے گا بلکہ خود غیب سے ہمیشہ میری دستگیری و امدا د فرمائے