مردانِ خدا — Page 57
مردان خدا ۵۷ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی گا اور میں اس یقین پر ہوں کہ وہ ذات والا صفات کبھی بھی مجھے ایسے دعوی کرنے اور بڑے بول بولنے والوں کا محتاج نہ ہونے دے گی۔آپ کو یقین کامل تھا کہ کوئی ضائع نہیں ہوتا جو تیرا طالب ہے کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جو یاں تیرا حضرت بھائی جی فرماتے ہیں:۔میں نے یہ الفاظ چلتے چلتے بہت ادب سے ان کے گوش گزار کئے جس کے بعد وہ اپنے گاؤں کو چلے گئے اور مجھے اللہ کریم نے اپنے خاص فضل بے پایاں سے اس مرحلہ پر بھی ثبات و نشاط بخش کر نوازا اور دار الامان ہی میں جگہ عطا فرمائے رکھی۔فالحمد للہ عدالت سے سمن اس جد و جہد اور دوڑ دھوپ کے بعد مختلف طریق سے مجھے مرعوب کرنے اور دھمکانے کی غرض سے رنگا رنگ اور گونا گوں خبریں میرے کانوں تک پہنچائی جانے لگیں اور بعض معتبر لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے والدین اور رشتہ دار میرے سسرال کو میرے خلاف کوئی مقدمات دائر کرنے کی کوشش کرا رہے ہیں اور برادری نے ان پر بہت زور اور دباؤ بھی ڈالا۔مگر انہوں نے یہ کہتے ہوئے ایسی نجاست پر منہ مارنے سے عذر کر دیا کہ پہلے ہی ” نہ معلوم کس پاپ کی سزا ہمیں بھگتنا پڑی ہے اور اپرادھ کر کے ہمارا کہاں ٹھکانہ ہو گا۔مگر میرے والد صاحب اور بعض عیار رشتہ داروں کو نہ معلوم کتنی جلن لگی تھی کہ ان کے غضب کی آگ بجھنے ہی میں نہ آتی تھی اور وہ میرے در پے آزار ہی چلے جارہے تھے۔نہ معلوم کتنے منصوبوں اور سازشوں میں ان کو نا کامی و نامرادی کا منہ دیکھنا نصیب ہوا اور آتش انتقام کہاں کہاں ان کو لئے پھرتی رہی۔کس قدر مال و منال ایسی حیلہ