مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 229
مقام خاتم السنة واضح رہے کہ امام علی القاری فضول شعبدہ بازی کے ساتھ نبوت کے دعوی کرنے والے یا شریعت میں تغیر کرنے والے مدعی نبوت مستقلہ تشریعیہ کے متعلق یہ فتوی دے رہے ہیں نہ کہ امتی نبی کا دعویٰ کرنے والے کے متعلق مسیح موعود کو تو وہ خود امتی نبی بموجب احادیث نبویہ تسلیم کرتے ہیں۔گو وہ مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین کے متعلق ہمارے نزدیک اجتہادی غلطی میں مبتلا ہیں۔اور قبل از ظهور پیشگوئی ایسی اجتہادی غلطی کا امکان ہوتا ہے۔پانچواں قول پانچواں قول انہوں نے یہ پیش کیا ہے:۔إِنَّهُ خَتَمَهُمْ أَيْ جَاءَ اخِرَهُمْ فَلَا نَبِيَّ بَعْدَهُ أَيْ لَا يَتَنَبَّأُ أَحَدٌ بَعْدَهُ فَلَا يُنَا فِي نُزُوْلَ عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مُتَابِعًا لِشَرِيْعَتِهِ مُسْتَمِدًا بِالْقُرْآن وَالسُّنَّةِ۔جمع الوسائل شرح شمائل جلد اصفحہ ۳۳۔عقیدۃ الامۃ صفحہ ۷۶) یہ قول تو سراسر ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے کہ ایسے نبی کا آنا جو شریعت محمدیہ کے تابع ہو اور قرآن وسنت سے استمداد چاہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے منافی نہیں۔کیونکہ آپ آخری نبی ان معنی میں ہوئے کہ آپ آخری شریعت لانے والے ہیں اس لئے مسیح موعود آپ کے تابع اور اتنی نبی ہوگا نہ کہ مستقل نبی۔پس لَا يَتَنَبا أَحَدٌ بَعْدَہ کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو تشریعی اور مستقلہ نبوت نہیں دی جائے گی۔