مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 228
٢٢٨ مقام خاتم است شارع اور مستقل غیر تشریعی نبی پیدا نہیں ہوگا۔اور دلیل اس کی یہ دی ہے لَانَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ السَّابِقِيْنَ کہ آپ پچھلے تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔اور پچھلے نبیوں کے متعلق یہ امر مسلم بین الفریقین ہے کہ وہ یا تشریعی نبی تھے یا غیر تشریعی مستقل نبی۔حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی تشریح میں امام علی القاری علیہ الرحمتہ کا ایک اور قول بھی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:۔وَرَدَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَمَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ لَا يَحْدُتُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ بِشَرْعٍ يَنْسَخُ شَرْعَهُ۔الاشاعتہ فی اشراط الساعۃ صفحہ ۲۲۶) ترجمہ: حدیث میں لَا نَبِيَّ بَعْدِی آیا ہے جس کے معنے علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ کوئی نبی ایسی شریعت کے ساتھ پیدا نہیں ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی ناسخ ہو۔پس اس قول سے ظاہر ہے کہ اتنی نبی کا پیدا ہون حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے منافی نہیں۔چوتھا قول چوتھا قول یہ پیش کرتے ہیں:۔" قَدْ يَكُوْنُ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْقَتْلَ كَمَنْ يَّدَّعِي النُّبُوَّةَ بِمِثْلِ هذِهِ الْخُزَعْبِيَّلَاتِ أَوْ يَطْلُبُ تَغَيَّرَ شَيْيءٍ مِنَ الشَّرِيْعَةِ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ۔“ ملحقات شرح فقہ اکبر صفحه ۱۸۳ بحوالہ عقیدۃ الامۃ صفحہ ۷۶)