مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 144 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 144

۱۴۴ مقام خاتم است نتين دعوی کا بھی یہی مفہوم ہے کہ آپ مثیل مسیح ہیں۔مولوی نور الدین صاحب از خود آپ کو گھبرا کر یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ دمشقی حدیث کے انطباق کو الگ چھوڑ دیا جائے اور اس کے بغیر ہی مثیل مسیح کا دعوئی ظاہر کیا جائے یہ تحریر اس وقت کی ہے جب کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ کر چکے تھے۔پس مثیل مسیح کے دعوے سے بچنے کی آپ کو کوئی ضرورت نہ تھی۔اس خط میں تو آپ نے اپنی بے نفسی بیان فرمائی ہے کہ آپ کو مثیل مسیح بنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔گویا خدا تعالیٰ نے خود آپ کو گوشئہ گمنامی سے باہر نکالا اور یہ دعوی کرایا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مولوی خالد محمود صاحب نے حقیقت کو چھپانے کے لئے تحریف سے کام لے کر مکتوب کا اگلا حصہ درج نہیں کیا۔حالانکہ ( در حقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی کچھ حاجت نہیں ) کے آگے حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :۔یہ بننا چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے عاجز اور مطیع بندوں میں داخل کر دے لیکن ہم ابتلاء سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے ترقیات کا ذریعہ صرف ابتلاء کو ہی رکھا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے أَحَسِبَ النَّاسُ 66 أَنْ يُتْرَكُوْا اَنْ يَقُوْلُوْا امَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَتُونَ " اس عبارت سے ظاہر ہے کہ گو حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک حدیث کے بارے میں کچھ گھبرا کر یہ مشورہ دیا کہ اسے اپنے دعوے سے متعلق قرار نہ دیا جائے کیونکہ اس میں ان کے نزدیک لوگوں کے لئے ابتلاء کا خطرہ تھا۔مگر حضرت سلسلہ احمد یہ ایسے جری تھے کہ انہوں نے اسبارہ میں حضرت مولوی نورالدین