مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 145
(ira) مقام خاتم است صاحب کا مشورہ بالکل قبول نہیں کیا۔بلکہ یہ شاندار مومنانہ اور مصلحانہ جواب دیا کہ ہم ابتلاء سے بھاگ نہیں سکتے۔اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو تسلی دی که ابتلاء تو ترقیات کا ذریعہ ہوتا ہے۔اور اس امر کو قرآن مجید سے ثابت کیا۔واضح رہے کہ یہ مکتوب ۱۸۹۱ء کا ہے۔مثیل مسیح کا دعویٰ آپ اس سے بہت پہلے براہین احمدیہ میں کر چکے تھے۔۱۸۹۱ء میں آپ پر الہام ہو ا :۔مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو گیا ہے۔اور اس کے رنگ میں خدا کے وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۴۰۲) اس الہام سے حضرت اقدس پر یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ کو بطور مثیل مسیح امت کا مسیح موعود قرار دیا گیا ہے۔جب حضرت مولوی نورالدین صاحب کو اس دعوئی کا علم ہوا تو اس پر آپ نے از خود دمشقی حدیث کو اپنے متعلق قرار نہ دینے کا مشورہ دیا تا لوگ ابتلاء میں نہ پڑیں۔پس جب مکتوب کے آخری فقرات سے صاف ظاہر تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کا اس بارہ میں کوئی مشورہ قبول نہیں کیا تو خالد محمود صاحب کا یہ تاثر دینا کہ آپ نے مُریدوں سے پوچھ پوچھ کر دعوی کیا تھا اور اس میں کوئی سازش موجود تھی سراسر بے پر کی اُڑانا ہے۔مولوی خالد محمود صاحب کو واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ کہ بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کو اس عاشق خدا اور رسول ( صلے اللہ علیہ وسلم ) سے متعلق بھٹی سے بچائے۔