مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 143
۱۴۳ مقام خاتم النت انہیں مشکلات میں گھرے ہوئے وہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے اور محض مثیل مسیح کے دعوئی سے بچنے کے لئے حکیم نورالدین سے مشورۂ خط و کتابت کر رہے ہیں۔ایک خط میں حکیم صاحب کو لکھتے ہیں۔جو کچھ آنمخدوم نے تحریر فرمایا ہے اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے در حقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی حاجت نہیں۔( مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۸۵،۸۴) یه اقتباس درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:۔وو (عقیدۃ الامۃ صفحہ ۳۱،۳۰) و بھلا جو افراد کریمہ خدا کے فرستادہ ہوتے ہیں وہ دوسروں سے پوچھ پوچھ کر اپنے مُریدوں سے مشورے لے لے کر اپنے دعووں کی عمارت تعمیر کرتے ہیں۔آسمانی دعوے کوئی سازش نہیں ہوتے۔جن کے لئے باہمی راز و نیاز کی خط و کتابت ہو رہی ہے۔“ (عقیدۃ الامۃ صفحہ ۳۱،۳۰) اس عبارت میں خالد محمود صاحب نے بے پر کی اڑائی ہے۔بیشک حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوئی رسالت۔وحی اور مسیح موعود میں مشکلات تھیں مگر آپ نے کسی کے مشورے سے یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ مثیل مسیح کے دعوے سے بچنے کے لئے حضرت مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ کو کوئی خط لکھا ہے۔مثیل مسیح کے دعوے سے بچنے کی کیا ضرورت تھی۔یہ دعوئی تو آپ کا مسیح موعود کے دعوے سے پہلے بھی تھا اور مسیح موعود کے