مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 91 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 91

الجواب مقام خاتم انا مولوی خالد محمود صاحب ! سنیئے ! جب حضرت عیسی علیہ السلام کے بصورت غیر تشریعی امتی نبی کے آنے کے خود آپ بھی قائل ہیں۔تو امت محمدیہ میں ایک نبی کی ضرورت کو آپ خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔اب بتائیے حضرت عیسی کی آمد ثانی آپ کے نزد یک رحمت ہے یا نہیں ؟ اگر رحمت ہے تو آپ انہیں ان کی پہلی آمد میں تو تشریعی مانتے ہیں۔اب بتائیے اس پہلی حیثیت میں ہی آپ حضرت عیسی علیہ السلام کا آنا کیوں نہیں مانتے؟ آخر آپ تشریعی نبی کی حیثیت میں اُن کا آنا اسی لئے تو نہیں مانتے کہ قرآن مجید کی مکمل شریعت کے بصورت رحمت موجود ہونے کی صورت میں کسی تشریعی نبی کی ضرورت نہیں۔اور خدا تعالیٰ دُنیا کو ضرورت کے بغیر کوئی نئی شریعت نہیں دیتا۔مولوی خالد محمود صاحب ! کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ نئی شریعت تب ہی آتی ہے جب پہلی شریعت دُنیا کے لئے کافی نہ رہے۔یا اس میں تحریف ہو چکی ہو۔اور نبی غیر تشریعی صرف پہلی شریعت کی تجدید کے لئے آتا ہے۔نیز اس وقت آتا ہے جب کہ قوم کی اصلاح ایک غیر تشریعی نبی کے بغیر محض علمائے اُمت کے ذریعہ نہ ہو سکتی ہو۔قرآن مجید کی شریعت چونکہ کامل شریعت ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔اس لئے شریعت کی صورت میں رحمت تو دُنیا کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے اس لئے کسی نئی شریعت کا بھیجا تحصیل حاصل ہے۔ہاں قوم کے بگاڑ کی خبر احادیث نبویہ میں واضح طور سے موجود ہے چنانچہ ایک حدیث نبوى لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان ایک