مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 90 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 90

(9۔) مقام خاتم النی نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ ( حجر ع (۱) سے ظاہر ہے کہ شریعت محمد یہ آئیند ہ محفوظ رہے گی۔لہذا ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی تشریعی نبی کی ضرورت نہیں۔پس ان آیات سے ظاہر ہے کہ آئیندہ نہ تشریعی نبی آسکتا ہے اور نہ ہی مستقل غیر تشریعی نبی آسکتا ہے۔بلکہ صرف امتی نبی ہی آ سکتا ہے۔اسی لئے تو اے خالد محمود صاحب ! آپ حضرت عیسی علیہ السلام کو جو آپ کے نزدیک تشریعی نبی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کی حیثیت میں آنے والا مانتے ہیں۔اُصولِ فقہ میں یہ مسلم ہے کہ کسی نص کا اگر بظاہر حکم عام ہو، اور ایک دوسری نصت اس حکم کی تخصیص کر رہی ہو تو وہ نص عام مخصوص بالبعض“ ہو جائے گی لہذا اُصولِ فقہ کی رُو سے اس آیت سے تشریعی رسُول یا غیر تشریعی مستقل رسُول کی آمد کا امکان پیدا ہی نہیں ہوتا۔بلکہ صرف اتنی نبوت کا اجراء ہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ دوسری آیات اس کے عموم کی تخصیص ہیں۔مولوی خالد محمود صاحب کا ایک مغالطہ مولوی خالد محمود صاحب لکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے عوام کو مغالطہ دینے کے لئے یہ عجیب انداز کر رکھا ہے کہ جب نبوت خدائی رحمت ہے تو یہ بند کیوں ہو گئی۔ہم کہتے ہیں اگر غیر تشریعی نبوت خدا کی رحمت ہے تو تشریعی نبوت بھی کوئی زحمت نہیں آخر وہ کیوں بند ہو گئی۔حالانکہ اس رحمت کے بند ہونے کے تم خود بھی قائل ہو۔66 ( عقيدة الامة صفحه ۱۲)