مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 44
۴۴ مقام خاتم السنة نتين لازم کیسے قائم رہ سکتا ہے۔پس اس صورت میں تو خاتمیت مرتبی کے انتفاء کو خاتمیت زمانی کا انتفاء لا زم آئے گا۔اور نہ خاتمیت مرتبی کا وصف قائم رہے گا نہ خاتمیت زمانی کا وصف۔فتدبّر۔مولوی خالد محمود صاحب نے خاتمیت مرتبی کے ساتھ خاتمیت زمانی کا لزوم مولوی محمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ کی طرف سے مسلم دکھانے کے متعلق اُن کی جو عبارت خود مختصر کر کے عقیدۃ الامۃ صفحہ ۶۱ پر پیش کی ہے۔اس کا یہ مفہوم ہر گز نہیں ہوسکتا کہ مولا نا محمد قاسم صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاخیر زمانی کو ایسے معنوں میں تسلیم کرتے ہیں کہ اُن کا خاتمیت مرتبی کے معنوں سے تضاد پایا جائے۔چونکہ اس سے التقیضین اور اجتماع الضر من لازم آتا ہے اس لئے خاتم النبیین کے دو متضاد اور متناقض معنی کومولانامحمد قاسم صاحب علیہ الرحمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں جمع قرار نہیں دے سکتے۔لہذا حضرت مولانا موصوف کی مراد اس عبارت میں یہی ہو سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشریعی نبی ہیں۔پس خاتمیت مرتبی کے فیض سے آئیندہ امتی نبی کا پیدا ہونا نہ خاتمیت مرتبی کے منافی ہے نہ خاتمیت زمانی کے۔اس طرح خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی میں کوئی تضاد و تناقض پیدا نہیں ہوتا۔خاتمیت مرتبی امتی نبی کے ظہور میں مؤثر رہتی ہے اور خاتمیت زمانی تشریعی نبی کے آنے میں مانع رہتی ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں معنوں میں خاتم النبیین رہتے ہیں۔مولوی خالد محمود صاحب نے مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمتہ کی تحذیر الناس صفحہ ۸ کی جو عبارت تاخیر زمانی کے لزوم کے ثبوت میں مختصر کر کے پیش کی ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاخیر زمانی کو آخری تشریعی نبی کے معنوں میں ہی قرار دیا گیا ہے۔اس