مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 45 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 45

۴۵ مقام خاتم انا عبارت کے الفاظ یہ ہیں:۔بالجملہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصف نبوت میں موصوف بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور انبیاء موصوف بالعرض۔اس صورت میں اگر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلّم کو اوّل یا اوسط میں رکھتے تو انبیائے متاثرین کا دین اگر مخالف دین محمدی ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا۔اور انبیائے متاثرین کا دین اگر مخالف نہ ہوتا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیائے متاثرین پر وحی آتی اور افاضہ علوم کیا جاتا ورنہ نبوت کا پھر کیا معنی۔سواس صورت میں اگر وہی علوم محمدی ہوتے تو بعد وعدہ محکم إِنَّا لَهُ لحافظون ان کی کیا ضرورت تھی۔اگر علوم انبیائے متاخرین علوم محمدی کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا تبياناً لكلّ شئ ہونا غلط ہو جاتا۔ایسے ہی ختم نبوت بمعنی معروض کو تاخیر زمانی لازم ہے۔“ ( عقيدة الامته صفحه ۶۱ ) اس عبارت میں مولانا محمد قاسم علیہ الرحمتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو تشریعی نبی ہیں یہ بتا رہے ہیں کہ آپ اول یا اوسط میں کیوں نہیں رکھے گئے اور آخر میں کیوں رکھے گئے؟ مولا نا موصوف لکھتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اول یا اوسط میں رکھے جاتے تو آپ کے بعد آنے والے انبیاء کا دین اگر ناسخ دینِ محمدی ہوتا ، تو اس سے ادنی دین سے جو وہ نبی لاتا اعلیٰ دین کا جو دین محمدی ہوتا منسوخ ہونا لازم آتا۔اُن کے بیان کے اس حصہ سے ظاہر ہے کہ مولانا موصوف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاخر زمانی یا بالفاظ دیگر خاتمیت زمانی کو اس مفہوم میں لے رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ