مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 43
۴۳ مقام خاتم النی نتين واب:۔مولوی خالد محمود صاحب کا یہ اعتراض درست نہیں۔ہم لوگ اس عبارت کے الفاظ ” خاتمیت محمدی کو خاتمیت زمانی پر بھی مشتمل جانتے ہیں۔اور خاتمیت مرتبی پر بھی۔کیونکہ خاتمیت محمدی دونوں قسم کی خاتمیت کی جامع ہے۔ہم خاتمیت محمدی کے الفاظ سے صرف خاتمیت زمانی ہی مراد نہیں لیتے۔بیشک آئیندہ نبی تو خاتمیت مرتبی کے فیض سے ہی پیدا ہو سکتا ہے۔لیکن مولانا محمد قاسم صاحب کے نزدیک آئیندہ خاتمیت مرتبی کی تاثیر میں خاتمیت زمانی علی الاطلاق مانع نہیں تبھی تو آپ نے یہ فرمایا ہے کہ بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا مولوی خالد محمود صاحب! خاتمیت محمدی صرف خاتمیت مرتبی ہی کا نام نہیں بلکہ خاتمیت محمدی خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی دونوں پر مشتمل ہے۔کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دونوں قسم کی خاتمیت پائی جاتی ہے۔پس خاتمیت زمانی خاتمیت مرتبی کی تاثیر میں علی الاطلاق مانع نہیں ہو سکتی۔صرف بعض قیود کے ساتھ ہی مانع ہوسکتی ہے۔پس خاتمیت زمانی سے انقطاع کی تاثیر ایسی ہی ماننی پڑے گی جو خاتمیت مرتبی کی تاثیر میں مانع نہ ہو۔اور خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی میں تضاد و تناقض پیدا نہ ہو۔ورنہ خاتم النبیین کے دو متضاد اور متناقض معنوں کا بیک وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں جمع ہونا لازم آئے گا۔اور اجتماع نقیضین اور اجتماع الصدّین تو ایک محال امر ہے۔اور یہ آپ کہ نہیں سکتے کہ اب خاتمیت مرتبی قائم نہیں رہی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسمانی ظہور پر محض خاتمیت زمانی ہی سے متصف ہیں۔کیونکہ خاتمیت زمانی مولانا موصوف کے نزدیک خاتمیت مرتبی کو لازم ہے۔اور ملزوم وصف اگر قائم نہ رہے تو