مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 30 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 30

مقام خاتم ا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>ر جن الفاظ کو ہم نے جلی لکھا ہے وہ ہر گز مندرجہ بالا عربی عبارت کا صحیح ترجمہ <mark>نہی</mark>ں۔خالد محمود صاحب کا یہ ترجمہ تو امام موصوف کے سارے پچھلے بیان کے صریح بر ع<mark>کس</mark> ہے۔اور سیاق کلام سے اس کا کوئی علاقہ <mark>نہی</mark>ں۔کیونکہ امام موصوف تو تکفیر کا رجحان مٹانا چاہتے ہیں۔مگر اپنے ترجمہ سے مولوی خالد محمود صاحب نے امام موصوف کے اس مضمون کی رُوح کو ہی کچل کر رکھ دیا ہے۔امام موصوف تو تکفیر کے رُجحان کو دُور کرنے کے لئے نص کو مان کر اس کی تاویل کرنے والوں کی تکفیر میں توقف کا سبق دے رہے ہیں۔اور مولوی خالد محمود صاحب اس کے برع<mark>کس</mark> امام صاحب کی طرف یہ <mark>امر</mark> منسوب کر رہے ہیں کہ نص خــــاتـــم ال<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>ین اور لَا نَبِيَّ بَعْدِی کو مان کر اُس کی تاویل کرنے والوں کو امام موصوف نے اس عبارت میں بلا تاخیر و توقف کا فرقرار دے دیا ہے۔حالانکہ امام موصوف تو یہ بتا رہے ہیں کهہ کلمہ شہادت تکفیر میں توقف کا قطعی موجب ہے۔اور تاویل کرنے والوں کو کافر نہ قرار دینے کے متعلق ایک روشن دلیل ہے۔اور اجماع حجت قاطعہ <mark>نہی</mark>ں۔مگر مولوی خالد محمودصاحب، امام موصوف کی طرف یہ منسوب کر رہے ہیں کہ گویا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کلمہ شہادت کہنے والے کو کفر کے فتویٰ سے محفوظ قرار دے دیا جائے تو اس سے بہت سے اُمور شنیعہ پیدا ہوتے ہیں حالانکہ امام موصوف کی مراد اس سے بالکل برع<mark>کس</mark> ہے۔وہ کلمہ شہادت کو کافر نہ قرار دینے کی دلیل بیان کرنے کے بعد یہ فرماتے ہیں کہ اگر تکفیر کا دروازہ کھول دیا جائے اور لا الہ الا اللہ کے ذریعہ اقرار اسلام کو تکفیر میں توقف کی دلیل نہ سمجھا جائے اور اجماع کو حجت قاطعہ سمجھا جائے تو اس سے بہت سے امور شنیعہ یعنی مفاسد پیدا ہونے کا احتمال ہے۔چنانچہ اگر تکفیر کا دروازہ کھول دیا جائے تو پھر تو خاتم النبيين اور لا <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> بعدی کی تاویل کرنے والے کی تکفیر میں توقف نہ کیا جائے گا۔حالانکہ صحیح مذہب یہ