مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 29 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 29

۲۹ مقام خاتم انا ہیں۔وہ عبارت یہ ہے:۔لَوْفُتِحَ هذَا الْبَابُ لَحَرِّ إِلى أُمُوْرٍ شَنِيْعَةٍ وَهُوَ أَنَّ قَائِلًا لَوْ قَالَ يَجُوزُ أَن يُبْعَثَ رَسُوْلٌ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُبْعَدُ التَّوَقُفُ فِي تَكْفِيرِه صحیح مفہوم اس عبارت کا سیاق کلام کے مطابق یہ ہے کہ: (الاقتصاد صفحه ۱۱۳) اگر ہم تکفیر کا دروازہ ( لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ کہنے والے کے لئے بھی اجماع کا منکر ہونے کی نباء پر ) کھول دیں تو اس سے کئی امور شنیعہ پیدا ہوں گے۔مثلاً ایک شخص کے یہ کہنے پر کہ یہ امر جائز ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول ہو سکتا ہے اس کو کافر کہنے میں توقف نہ ہوگا۔( یعنی وہ فورا کا فرقرار دے دیا جائے گا) حالانکہ امام موصوف تکفیر میں جلد بازی کے رجحان کو اس سے پہلی عبارت کے ذریعہ مٹانا چاہتے ہیں اور اجماع کو بھی حجت قاطعہ نہیں سمجھتے۔اور اس سے انکار کو تکفیر کا موجب نہیں جانتے۔مولوی خالد محمود صاحب نے اس عبارت کا ترجمہ منشائے متکلم کے بالکل الٹ یہ کر دیا ہے:۔اگر محض اقرار کلمہ اسلام کی بناء پر تکفیر کو روک لیا جائے تو اس سے بہت سے اُمور شنیعہ کا دروازہ کھل جائے گا۔مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی شخص کو نبوت مل سکتی ہے تو اُس کی تکفیر میں تو قیف کرنا تو ہرگز جائز نہ ہوگا۔