مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 251
(۲۵۱) مقام خاتم است نتين محال ہے جیسے بیٹے کو باپ کے ساتھ رہنے میں ہوتی ہے۔امام راغب مفردات القرآن میں زیر لفظ مع۔معیت کے چار معنے معیت زمانی ، معیت مکانی، معیت متضائفین اور معتيت فى المنز لہ بیان کرتے ہیں۔پہلی تین قسم کی معیت اس آیت میں محال ہے۔لہذا چوتھی قسم کی معیت یعنی مرتبہ میں معیت ہی مُراد ہو سکتی ہے۔لہذا مع اس جگہ مِنْ کا مفہوم دینے کے علاوہ ایک زائد مفہوم بھی دے رہا ہے۔جو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے چاروں گروہوں میں سے کسی گروہ میں داخل ہونے کے علاوہ یہ اطاعت کرنے والے جامع کمالات انبیاء یا جامع کمالات صدقین یا جامع کمالاتِ شہداء اور جامع کمالات صالحین بھی ہو سکتے ہیں۔خالی من کا لفظ استعمال کرنے سے یہ مفہوم پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔پس جامع کمالات انبیاء کا اُن کے زمرہ میں داخل ہونا بدرجہ اولیٰ مراد ہوا۔امام راغب نے آیت فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ کی تفسیر میں لکھا ہے:۔أَيْ إِجْعَلْنَا فِي زُمْرَتِهِمْ أَيْ إِشَارَةٌ إِلَىٰ قَوْلِهِ أُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ الآيم (مفردات القرآن) یعنی فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں شاہدین کے زمرہ میں داخل کر دے اس میں آیت أُوْلَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَ الصَّالِحِيْنَ کی طرف اشارہ ہے۔پس علامہ راغب کے نزدیک شاہدین کے ساتھ ہونے سے انبیاء یا صد یقوں یا