مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 242
له الدله مقام خاتم النی نتبيين حیثیت میں آنا اُن کے نزدیک آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں اور وہ اُن کی قوتِ حاکمہ سے بھی انکار نہیں کر سکتے۔کیونکہ اُمتِ محمدیہ کے مسیح موعود کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے حکم عدل قرار دیا ہے۔لہذا ہم احمدی جب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو مسیح موعود کی حیثیت میں امتی نبی ہی مانتے ہیں تو پھر آپ کی بوت آیت خاتم النبیین کے منافی نہ ہوئی۔آیت خاتم النبیین کے منافی تو وہ نبوت ہوگی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء کو بالاستقلال حاصل تھی۔اُمتی نبی تو ایک جدید اصطلاح ہے جو صحفِ اولیٰ میں کبھی استعمال نہیں ہوئی۔اور اُمتی نبی کا دعویٰ مستقلہ نبوت کا نہیں۔پس حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کے جس قدر اقوال مولوی خالد محمود صاحب نے عقیدۃ الامۃ میں انقطاع نبوت کے متعلق پیش کئے ہیں وہ سب تشریعی اور مستقلہ نبوت سے تعلق رکھتے ہیں نہ اُمتی نبی کی آمد کے انقطاع سے۔کیونکہ مسیح موعود علیہ السّلام کو تو حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ بھی دیگر علمائے امت کی طرح امتی نبی ہی مانتے ہیں نہ کہ مستقل با تلقی یا شارع نبی۔گو آپ نے مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا کامل عکس قرار دیا ہے کہ گویا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا دوسراستہ ہے۔پس مسیح موعود کو چونکہ امتی نبی تسلیم کیا جاتا ہے اس لئے جو نبوت باقی نہیں رہی وہ تو اُسے حاصل نہ ہوگی اور یہ تشریعی اور مستقلہ نبوت ہی ہے جو باقی نہیں رہی ہے۔جو باقی رہی ہے وہ المبشرات والی جزء نبوت ہی ہے۔لہذا اسی جز ء نبوت کو کامل طور پر حاصل کرنے کی وجہ سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو نبی اور رسُول قرار