مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 241
۲۴۱ مقام خاتم است ترجمہ:۔عوام کا خیال ہے کہ مسیح جب زمین کی طرف نازل ہوگا تو وہ صرف ایک امتی ہوگا۔ایسا ہرگز نہیں۔بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہو گا۔( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ظلت اور بروز ہوگا ) اور آپ کا ہی دوسرا نسخہ ہوگا۔( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی ہی بعثت ثانیہ ہو گا۔) حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمتہ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں:۔” لاَنَّ النُّبُوَّةَ يَتَجَزْى وَجُزْءٌ مِنْهَا بَاقٍ بَعْدَ خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ المسوی شرح المؤطا جلد ۲ صفحہ ۲۱۶ مطبوعہ دہلی ) یعنی نبوت قابل تقسیم ہے اور اس کی ایک جزء ( یعنی غیر تشریعی نبوت ) خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باقی ہے۔یہ بیان آپ کا حدیث نبوی لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ کے مطابق ہے کہ نبوت کے اجزاء میں سے المبشرات کا حصّہ باقی ہے۔نبوت کی جو تعریف خالد محمود صاحب کے نزدیک ہے حضرت بانی سلسلہ احمد یہ تو اپنے آپ کو اس تعریف کا مصداق ہی قرار نہیں دیتے تو پھر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مولوی خالد محمود صاحب کی تعریف میں نبی ہی نہ ہوئے۔لہذا ان کا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر ختم نبوت کے منکر ہونے کا الزام دینا ظلم اور تعدی اور تعلم محض نہیں تو اور کیا ہے؟ خلاصہ کلام یہ کہ جس طرح مولوی خالد محمود صاحب حضرت عیسی علیہ السلام کوآمد ثانی میں اُمتی نبی مانتے ہیں نہ کہ مستقل تشریعی نبی۔اور اُن کا اُمتی نبی کی