مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 235 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 235

(۲۳۵ ر خاتم است تفویض نموده مع ذالک یک پیغمبر اولو العزم را متابع او ساخته ترویج شریعت او نموده است۔(مکتوبات جلد اوّل صفحه ۲۱۰ مکتوب نمبر ۲۰۹) کہ علماء امت حکما نبی ہی ہیں۔انہیں تقویت شریعت اور تائید ملت کا کام سپرد ہے۔اور اس کے ساتھ ہی ایک اولوالعزم پیغمبر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا اور شریعت محمدیہ کو رواج دینے کے لئے مقرر کیا ہے۔ان کا یہ اجتہادی خیال کہ مسیح موعود اصالتا عیسی علیہ السلام میں واقعات کے رُو سے غلط ہے کیونکہ بموجب حدیث نبوی فَــمَّـكُـمْ مِنْكُمْ ( صحیح مسلم) موعود ابن مریم کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلّم نے امت محمدیہ میں سے امت کا امام قرار دیا ہے جو اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ مسیح موعود کو ابن مریم کا نام استعارہ کے طور پر دیا گیا ہے جیسا کہ فقہاء نے کہا ہے ابو یوسف ابو حنیفه که امام ابویوسف تو بروزی طور پر ابو حنیفہ ہی ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت مجد دالف ثانی خاتم الانبیاء بمعنی آخری تشریعی و مستقل نبی مانتے ہیں نہ مطلق آخری نبی۔اسی لئے وہ مسیح موعود کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلّم کے بعد ایک اولو العزم امتی پیغمبر قرار دیتے ہیں۔چنا نچہ حضرت مجد دالف ثانی تحریر فرماتے ہیں:۔وو ایس قرب بالاصاله نصیب انبیاء است و این منصب مخصوص بائیں بزرگواران و خاتم ایں منصب سید البشر است علیه و آله الصلوة والسلام 66 مکتوبات جلد اول مکتوب بحوالہ عقیدۃ الامۃ صفحہ ۱۰۱)