مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 236
۲۳۶ مقام خاتم است کہ نبوت بالا صالة (مستقلہ۔ناقل ) کا قرب انبیاء کا حصہ ہے اور یہ منصب ان بزرگواروں سے مخصوص ہے اور سید البشر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس منصب ( نبوت بالا صالة ) کے خاتم ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت مستقلہ ختم ہے۔لیکن آپ کی ظلیت میں مقام نبوت منقطع نہیں۔کیونکہ ظل واصل میں منافات نہیں ہوتی۔فرق صرف یہ ہے کہ پہلے انبیاء پر منصب نبوت کی موہبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے واسطہ کے بغیر ہوئی ہے اور مسیح موعود کو موہبت نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور افاضہ روحانیہ کے واسطہ سے ملی ہے۔حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:۔وو باید دانست که حصول این موهبت درحق انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات بے توسط و در حق اصحاب انبیاء والتحیات که به تبعیت و وراثت بائیں دولت مشرف گشته اند بتوسط انبیاء است علیہم الصلوات والبرکات۔بعد از انبیاء واصحاب ایشاں کم کسے بائیں دولت مشترف گشته است۔ہر چند جائز است دیگری را به تبعیت و وراثت بایں دولت مهتند ساز د۔فیض روح القدس از باز مددفرماند دیگراں ہم بکنند آنچه مسیحا می کرد ( مکتوبات جلد اصفحه ۴۳۴) ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے رُوح القدس کے فیض سے ہماری مدد فرمائی۔اور ایک شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوحانی فرزندوں اور خادموں میں سے مسیحا بنا دیا ہے۔ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء