مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 234 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 234

(Fr) مقام خاتم النی یعنی یہ ہر دو بزرگوار اپنی بزرگی اور عظمت کی وجہ سے انبیاء میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے کمالات کے جامع ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان کو نبی نہیں کہا۔پس چونکہ خود نبوت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک کمال ہے اس لئے مسیح موعود کو جو نبوت حاصل ہونے والی تھی وہ خالی ہی ہے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے نبی بھی کہا ہے اور امتی بھی۔حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ محدث دہلوی و مجد دصدی دواز دہم رقمطراز ہیں:۔حَقٌّ لَهُ أَنْ يَنْعَكِسَ فِيْهِ أَنْوَارُ سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ شَرْحُ لِلْإِسْمِ الْجَامِعِ الْمُحَمَّدِي وَنُسْخَةٌ مُنْتَسِخَةٌ مِنْهُ۔66 هُوَ (الخير الكثير صفحہ۹۸-۹۹) کہ مسیح کا حق ہے کہ اس میں سید المرسلین کے انوار منعکس ہوں۔۔۔۔۔۔وہ تو اسم جامع محمدی کی تشریح اور اس کا ہی ایک دوسرا نسخہ ہے۔پس مسیح موعود جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا جامع اور آپ ہی کی ظلی رنگ میں بعثت ثانیہ ہے تو لا کلام وہ ظلی نبی ہوا۔اس کے اس منصب سے مولوی خالد محمود صاحب بھی انکار نہیں کر سکتے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ حضرت بانٹے سلسلہ احمدیہ کے مسیح موعود کے دعوی کی تکذیب کریں۔حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمہ تو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد موعود عیسی کو ایک الوالعزم پیغمبر تابع شریعت محمدیہ قرار دیتے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔علماء امت را حکم انبیاء داده کار تقویت شریعت و تائید ملت را بایشاں وو