مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 233 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 233

۲۳۳ مقام <mark>خاتم</mark> السنة کمالات ا<mark>نبی</mark>اء کے کمال متابعت سے حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام کو یہ کمالات نبوت حاصل ہوئے۔بایں ہمہ وہ <mark>نبی</mark> اور رسُول نہیں تھے۔“ (عقیدۃ الامۃ صفحہ ۹۸-۹۹) واضح رہے کہ چونکہ خود نبوت بھی <mark>نبی</mark> میں ایک کمال ہے اس لئے ظلمی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے امتی کو نبوت کا ملنا بھی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ہاں یہ درست ہے کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل نبوت کا حصول لازم نہیں آتا۔ہم بھی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کو ہی مانتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو اس اصل نبوت کا ظلت کامل ہونے کی وجہ سے ظلی <mark>نبی</mark> ہی یقین کرتے ہیں نہ کہ تشریعی <mark>نبی</mark>۔مولا نا محمد قاسم صاحب کے نزدیک تو تمام ا<mark>نبی</mark>اء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اظلال و عکوس ہی ہیں۔چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں :۔ا<mark>نبی</mark>اء میں جو کچھ ہے وہ ظل و عکس محمدی ہے۔کوئی ذاتی کمال نہیں۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۱۹) اور حضرت مجد دالف ثانی ” نے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو ا<mark>نبی</mark>اء میں ہی شمار کیا ہے۔چنانچہ و تحریر فرماتے ہیں:۔وو ایس ہر دو بزرگوار از بزرگی و کلانی در ا<mark>نبی</mark>اء معدوداند و بکمال ایشاں محفوف 66 مکتوبات جلد اول صفحه ۲۵۱ مکتوب نمبر ۲۷۱)