مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 196
(197 مقام خاتم النت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نبی ہونا آیت خاتم النبیین کے منافی نہ ہوتا کیونکہ آیت خاتم النبیین میں انقطاع نبوت کا وہ صرف یہ مفہوم بیان کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔پس امت میں سے کسی کا نبی بن جانا اُن کے نز دیک آیت خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔اسی لئے وہ فرماتے ہیں کہ فرزند رسول صاحبزادہ ابراہیم اگر زنده رہتے اور بموجب حدیث نبوی نبی ہو جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع یعنی اُمتی ہوتے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مذہب معلمہ نصف الدین اُم المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:۔" قُوْلُوْا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ “ 66 ( تفسیر در منثور جلد ۵ صفحه ۲۰۴) ترجمہ: لوگوتم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تو کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔یہی قول حضرت امام محمد طاہر علیہ الرحمۃ نے تکملہ مجمع البجار میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے:۔قُوْلُوْا إِنَّهُ خَاتَمُ الَّا نْبِيَاءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ “ (تکمله صفحه ۸۵)