مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 195 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 195

(190) مقام خاتم النيبير نہ ہوتی اور نہ امام علی القاری نے ایسا لکھا ہے۔صاحبزادہ ابراہیم کے نبی ہونے کی صورت میں ان کی عیسی ، خضر والیاس سے تشبیہ دینے سے یہ مراد نہیں کہ نبی بننے کی صورت میں وہ عیسی و خضر و الیاس علیہم السلام کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیدا ہوکر نبی بن چکے ہوتے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پاتے تو وہ نبی تو ہوتے مگر اُن کی نبوت نافذ نہ ہوتی۔تشبیہ میں یہ لازم نہیں ہوتا کہ مشبہ کی مشتبہ یہ سے تمام جزئیات میں اس طرح مشابہت ضروری ہو کہ دونوں کا زمانہ بھی ایک ہی ہو۔بلکہ اگر زمانہ حال کے کسی شخص کو جیسا کہ صاحبزادہ ابراہیم تھے زمانہ ماضی کے کسی شخص سے تشبیہ دی جائے تو اس تشبیہ سے مشتبہ کے زمانہ سے صرف نظر کر لینا بالکل ایک غیر معقول بات ہوگی۔اور امام علی القاری جیسا فاضل فقیہ کبھی ایسی غیر معقول بات نہیں کہہ سکتا۔خصوصا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے صاحبزادہ ابراہیم سے صرف نظر کر کے اُسے حضرت عیسی کی طرح اپنے سے کسی پہلے زمانہ کا انسان فرض کر کے یہ بات بیان نہیں فرما رہے بلکہ مقصود آپ کا اپنے اس وفات پانے والے فرزند کی استعداد نبوت کو بیان کرنا تھا جس سے نبوت کے بالفعل نفاذ میں صرف اس کی وفات حائل ہوئی ہے۔نہ کہ آیت خاتم النبیین۔پس مولوی خالد محمود صاحب اپنے مندرجہ بالا بیان میں محض کھینچ تان سے ایک سیدھی بات کو موڑ تو ڑ کر اپنا مطلب سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ اس سادہ سی تشبیہ میں امام علی القاری علیہ الرحمۃ کی مُراد صرف یہ ہے کہ جس طرح عیسی ، خضر اور الیاس کا جو پہلے کے نبی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو جانا ختم نبوت کے منافی نہیں۔اسی طرح اگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے ہاں پیدا ہونے والا فرزند ابراہیم وفات نہ پا جاتا تو اس