مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 177 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 177

(12) مقام خاتم است نبوت کی نوع ( قسم ) بدل جائے گی۔اور وہ تشریعی نبی سے غیر تشریعی امتی نبی ہو جائیں گے۔گویا اُن کی پہلی قسم کی نبوت میں تغیر واقع ہو جائے گا۔اور وہ ایک نئی قسم کی نبوت کے حامل ہونگے جس کی صورت غیر تشریعی اہمتی نبی کی ہوگی۔اس طرح اُن کے وجود میں ایک نئی قسم کی نبوت کا حدوث ہوگا۔پس جب اتنی نبی کا حدوث اور امکان ثابت ہے تو کیوں اس ثبوت کے پانے کا حق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے کسی ہمتی کو ہی نہ دیا جائے۔خدا تعالیٰ کو حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ لانے اور امتی بنانے کا تكلف اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔امتی کا حق تو فائق ہے کہ اسے اس قسم کی نبوت مل جائے جس سے وہ ایک پہلو سے نبی ہو اور ایک پہلو سے امتی۔تشریعی نبی کو غیر تشریعی بنانے میں تو خود اس غیر تشریعی نبی کی ہتک ہے۔حضرت مسیح موعود کا مذہب مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کی طرح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام بھی خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی دونوں کے قائل ہیں۔خاتمیت مرتبی کے متعلق آپ لکھتے ہیں :۔اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔(حقیقته الوحی حاشیہ صفحہ ۹۷)