مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 176
مقام خاتم انا خالد صاحب کے اتنی نبی اوپر کی بحث میں خالد محمود صاحب نے ان غیر تشریعی انبیاء کو بھی امتی نبی قرار دیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم سے پہلے گزر چکے حالانکہ ان میں سے کسی نے امتی نبی ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا گو وہ بعد از نبوت بھی شریعت موسوی کے تابع تھے بلکہ وہ سب بالا صالت نبی سمجھے جاتے ہیں۔یعنی مستقل نبی۔ہم امتی نبی صرف اُسے کہتے ہیں جس نے مقامِ نبوت خاتم النبيين صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بعد آپ کی ختم نبوت کے فیض سے پایا ہو۔بنی اسرائیل کے غیر تشریعی انبیاء کو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہم لوگ اس لئے امتی نبی نہیں کہتے کہ انہوں نے مقامِ نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فیض سے نہیں پایا بلکہ وہ سب براہِ راست نبی بنائے گئے۔چنانچہ حضرت بانئی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں:۔” بنی اسرائیل میں جس قدر نبی گذرے ہیں اُن سب کو خدا نے براہِ راست بچن لیا تھا۔حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا۔لیکن اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“ (حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۲۸) کامل انتی تو وہی کہلاتا ہے جسے ہر کمال اپنے بھئی متبوع کے فیض سے ملا ہو اور پیروی کے بعد ملا ہو۔ان معنوں میں حضرت عیسی علیہ السلام امتی نبی نہیں کہلا سکتے کیونکہ وہ بقول خالد محمود صاحب صاحب شریعت جدیدہ نبی تھے لہذا اگر وہ اصالتا نازل ہوں تو ان کی