مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 168 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 168

(IMA) مقام خاتم النی نبی ہونے کی وجہ سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف أُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ( میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں) میں شریک ہو جاتے ہیں۔اور اس امر میں کسی مستقل نبی کی شراکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محال ہے۔اگر خالد محمود صاحب یہ کہیں کہ حضرت عیسی امتی نبی کی حیثیت میں آئیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہونے کی وجہ سے وہ آپ کی نیابت میں ساری دُنیا کے لئے بھیجے جائیں گے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی علیہ السلام میں اصل اور خلیفہ کے فرق کی وجہ سے اشتراک لازم نہیں آئے گا۔تو گویا انہوں نے تسلیم کر لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت ان کی سابقہ نبوت سے مختلف قسم کی ہوگی۔اور وہ بعد نزول ایک نئی قسم کی نبوت کے حامل ہوں گے۔جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا ضروری ہے۔پس اگر یہ نئی قسم کی بوت کسی پہلے نبی کو مل سکتی ہے تو ایک امتی بدرجہ اولیٰ اس مقام کو حاصل کر سکتا ہے۔اور اصل بات تو یہ ہے کہ اتنی ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کا مستحق ہے کیونکہ سُورۃ نُور کی آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں سے ہی اس کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔" وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔“ ( سورة نور آیت ۵۶) ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ جو لوگ تم میں سے ایمان لا کر اعمال صالحہ بجالائیں۔اُن کو زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُن لوگوں کو خلیفہ بنایا جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں۔