مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 169
(179) ١٦٩ نتين مقام خاتم انبیر اس آیت کی رُو سے جو امتی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کا خلیفہ ہو اُس کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ کسی پہلے گذرے ہوئے خلیفہ کا مثیل ہو۔اور اس کے مشابہ ہو۔پس پہلا کوئی خلیفہ یا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہو کر نہیں آسکتا۔بلکہ کسی پہلے کا مثیل ہی آسکتا ہے۔پس حضرت عیسی علیہ السلام اس آیت کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہو ہی نہیں سکتے۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے کوئی شخص آپ کا خلیفہ ہوکر اور حضرت عیسی کا مثیل بن کر مسیح موعود ہوسکتا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے معنی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی بھی جو اپنے زمانہ کے مجد دتھے خُتِمَ بِی النَّبِيُّونَ کے معنی آخری شارع نبی ہی قرار دیتے ہیں نہ کہ آخری نبی علی الاطلاق چنا نچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:۔" خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ أَى لَا يُوجَدُ مَنْ يَأْمُرُهُ اللهُ سُبْحَانَهُ بِالتَّشْرِيْعِ عَلَى النَّاسِ۔“ (تفہیمات الہیہ صفحه ۷۲ ) یعنی خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ سے یہ مراد ہے کہ آئیندہ کوئی ایسا شخص نہیں پایا جائے گا جس کو خدا شریعت دے کر لوگوں پر مامور کرے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشریعی نبی ہیں۔اب ان معنوں کو مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی کی طرح خاتمیت مرتبی کے ساتھ لازم قرار دیا جائے تو خاتمیت مرتبی کے واسطہ سے آخری شارع نبی کے معنی