مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 126 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 126

اله پھر چشمہ معرفت میں تحریر فرماتے ہیں:۔مقام خاتم انا ہم بار بارلکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سیدو مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے۔اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔66 پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو تشریعی نبی ہونے کے دعویٰ سے بھی انکار ہے اور مستقل نبی ہونے کے دعوی سے بھی انکار ہے۔لہذا آپ صاحب شریعت ایک تشریعی اور مستقل نبی کی طرح نہیں۔پھر آپ تحریر فرماتے ہیں:۔”نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شریعت لاوے۔کیونکہ شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں۔جب تک اس کو ہتتی بھی نہ کہا جائے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی سے پایا نہ براہ راست۔“ (تجلیات الهیه صفحه ۹) یہ سب حوالہ جات اربعین کے بعد کی کتابوں کے ہیں جوار بعین کی اس تشریح کے مطابق ہیں کہ آپ صرف تجدید کے لئے مامور ہیں۔پس آپ کی وحی میں امر و نہی تجدید