مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 125 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 125

(iro) ۱۲۵ مقام خاتم انا ہی ہے۔جو ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔پس بیانِ شریعت کے طور پر پہلی شریعت کے اوامر ونواہی کا کسی مجد داسلام پر نازل ہونا گو وہ امتی نبی ہو صرف تجدید دین کی حیثیت رکھتا ہے۔آپ نے اربعین میں ہی صاف لکھ دیا ہے:۔” میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔“ پس اسلام کی تجدید کرنے والا اس طرح تو صاحب شریعت ہوتا ہے کہ اس پر پہلی شریعت کے بعض ضروری احکام بطور تجدید دین کے نازل ہوں۔لیکن صاحب شریعت مستقل نبی یا تشریعی نبی یا مستقله شریعت رکھنے والا نبی قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ وہ قرآن مجید کے واسطہ سے صاحب شریعت ہوتا ہے اور اگر وہ نبی بھی ہو تو ایک پہلو سے ضرور اُمتی بھی ہوتا ہے۔پس امتی نبی پر قرآن مجید کی پیروی اور اتباع کے واسطہ سے بعض قرآنی اوامر نواہی کا نزول جن پر عمل اس کے زمانہ میں از بس ضروری ہو اُ سے تشریعی نبی نہیں بنا دیتا۔تشریعی نبی کے لئے حضرت بانٹی سلسلہ احمد یہ الگ کتاب شریعت اور احکام جدیدہ کا لانا ضروری سمجھتے ہیں چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔”خوب یادرکھنا چاہئیے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالکل مسدود ہے۔اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔“ (الوصیت صفحه ۱۲)