مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 127
مقام خاتم النيبير دین کے طور پر نازل ہوا ہے نہ کہ مستقلہ شریعت کے طور پر۔آپ کو ان عبارتوں میں تشریعی نبی ہونے سے صاف انکار ہے۔تشریعی نبی آپ کے نزدیک وہی ہوتا ہے جو مستقل کامل شریعت لائے یا جو پہلی شریعت کے کسی حکم کو منسوخ کرے اور اس کی پیر وی معطل کرے۔آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ آپ نبی بھی ہیں اور اتنی بھی اور اس امت کے لئے مسیح موعود ہیں۔مسیح موعود پر شریعت محمدیہ کا الہام نازل ہونا پہلے علماء کو بھی مسلم ہے۔چنانچہ حضرت امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمہ مسیح موعود کے متعلق لکھتے ہیں:۔” يُلْهَمُ بِشَرْعِ مُحَمَّدٍ وَيَفْهَمُهُ عَلَى وَجْهِهِ“ الیواقیت والجواہر جلد ۲ بحث ۴۷ صفحه ۸۹) یعنی اس پر شریعت محمدیہ الہاما نازل ہوگی اور وہ اُسے ٹھیک ٹھیک سمجھے گا پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مذہب یہ ہے جس کی آپ نے اپنی جماعت کو تلقین فرمائی ہے کہ تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے کوئی اور کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔“ (کشتی نوح صفحه ۲۴) مندرجہ بالا واضح عبارتوں کی موجودگی میں مولوی خالد محمود صاحب کا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی طرف تشریعی نبی کا دعویٰ منسوب کرنا محض بہتان اور افتراء ہے۔خالد محمود صاحب یہ جانتے تھے کہ اربعین کی زیر بحث عبارت میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے آپ کو صاحب شریعت جدیدہ قرار نہیں دیا۔بلکہ اپنے اوپر نازل