مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 112
۱۱۲ مقام خاتم ان ۵۔اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اتنی۔“ (حقیقته الوحی صفحه ۱۵۰) میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی بھی۔“ (حقیقته الوحی صفحه ۱۵۵) ان حوالہ جات میں بیشک آپ کے عقیدہ نبوت میں ایک تبدیلی کا ذکر ہے۔اور وہ صرف یہ ہے کہ آپ نے اپنے متعلق اپنی وحی میں وار دلفظ نبی اور رسول کی تاویل اس زمانہ میں محدث کے لفظ سے کرنا خدا کی وحی کے ماتحت ترک کر دی۔اور یہ ہم بتا چکے ہیں کہ کسی مامور من اللہ پر اپنی شان کے متعلق تدریجی انکشاف ہرگز قابلِ اعتراض امر نہیں۔کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اپنی شان کے متعلق تدریجی انکشاف ہوا ہے۔اور پھر کئی انبیاء پر پہلے ولایت کا مقام حاصل کرنے کے بعد اپنے نبی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس کے ثبوت میں ہم مجدد الف ثانی علیہ الرحمتہ کی عبارت پہلے پیش کر چکے ہیں۔