مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 101 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 101

(II) مقام خاتم ان اس سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کو اپنے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی اور رسُول قرار دیا جانے سے انکار نہیں تھا۔البتہ آپ نے اس معروف تعریف کے ماتحت نبی اور رسول ہونے سے انکار کیا اور اپنے تئیں جو ئی نبی بمعنی محدث قرار دیا کیونکہ محدثیت نبوت سے شدید مشابہت رکھتی ہے۔لیکن 1901ء میں آپ پر انکشاف ہو گیا کہ آپ صریح طور پر نبی ہیں تو آپ نے اپنی نبوت کی تاویل محدث اور جو ئی نبی کے لفظ سے کرنا ترک فرما دی۔کیونکہ آپ پر منکشف ہو گیا تھا کہ تمام انبیاء رسُولوں کو نبی کا نام صرف مصفی غیب پر خدا تعالیٰ کی طرف سے بکثرت اطلاع دی جانے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔اور نبی کے لئے یہ شرط نہیں کہ شریعت یا احکامِ جدیدہ لائے یا کسی دوسرے نبی کا امتی نہ ہو۔بلکہ ایک اتنی بھی مکالمه مخاطبہ الہیہ مشتمل بر امور غیبیہ کثیرہ کی وجہ سے نبی ہوسکتا ہے۔ہاں خــــتـــم اء کے ظہور کے بعد اب اس نعمت کے پانے کے لئے آپ کی پیر وی شرط ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔” اور وہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئیندہ اُن سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مُہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔اور اُس کی اُمت کے لئے قیامت تک مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا۔اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ایک وہی ہے، جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی 66 ہونا لازمی ہے۔" (حقیقۃ الوحی صفحه ۲۸،۲۷)