مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 100 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 100

(I۔) مقام خاتم ان میں وحی نازل نہ ہوتی تھی تب تک اہلِ کتاب کی سنن دینیہ پر قدم مارنا بہتر جانتے تھے۔اور بر وقت نزول وحی اور دریافت اصل حقیقت کے اس کو چھوڑ دیتے تھے۔“ روحانی خزائن جلد ص ۱۹۷، ازالہ اوہام حصہ اول ) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو اپنے دعویٰ نبوت کے متعلق یہی صورت پیش آئی ہے۔علماء اسلام کے نزدیک اسلام میں (معروف) تعریف نبوت دی تھی :۔اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے۔اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خُدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔“ ( الحكم جلد نمبر ۲۹ ۱۸۹۹ء) اِس لئے گو خدا تعالیٰ نے آپ کو الہامات میں نبی اور رسول کہا تھا۔مگر آپ نبوت کی اس تعریف کو جامع مانع سمجھتے ہوئے نبوت کا دعوی نہیں کر سکتے تھے۔چنانچہ یہ تعریف نبوت تحریر کر کے آپ نے صاف لکھ دیا:۔وو ہوشیار رہنا چاہیئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسُول بجز محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔اور قرآن کریم خاتم الکتب ہے۔“ (الحكم جلد ۳ نمبر ۲۹ ۱۸۹۹ء)