مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 82 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 82

مالی قربانی 82 زکوۃ کے مال کو علیحدہ علیحدہ خرچ کرنا جائز نہ سمجھتے تھے بلکہ زکوۃ کا کل روپیہ بیت المال میں جمع ہوتا تھا اور عظیم الشان مفید کام اس سے نکلتے تھے۔گو اس وقت کتنی ہی چندوں کی آمد ہمارے سلسلہ میں ہو مگر ان اصول کی طرف جن پر اسلام کی بناء ہے توجہ نہ کرنا کم از کم اس سلسلہ کے جو مسیح موعود کا سلسلہ ہے شایان شان نہیں ہے۔جس طرح چندوں کے دینے سے نماز اور روزہ اور حج کے فرائض میں کوئی فرق نہیں آیا اسی طرح زکوۃ کے فرض کی ادائیگی میں بھی کوئی فرق نہیں آسکتا۔یا جس طرح تہجد اور نوافل کے ادا کرنے سے مسجد میں نماز با جماعت معاف نہیں ہو جاتی بلکہ وہ نوافل بے سود ہیں جو ایک شخص کو نماز با جماعت کی ادائیگی سے محروم رکھتے ہیں اسی طرح دوسرے چندوں کے دینے سے زکوۃ کی ادائیگی جو چار اصول اسلام سے ایک عظیم الشان اصل ہے یا اسلام کی عمارت کی چار دیواری میں سے ایک دیوار ہے معاف نہیں ہوسکتی ہماری ساری کامیابیوں کا مدار اسلامی اصول پر کار بند ہونا ہے۔پس اپنے دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ آئندہ کیلئے زکوۃ کے ایک جگہ جمع کر کے تقسیم کرنے کو اور وہ جگہ مرکزی مقام کے سوا نہیں ہو سکتی اپنے سلسلہ کے خاص امتیازات میں داخل کریں کیونکہ جب تک ہم ان لوگوں سے جنہوں نے اصول اسلام کی پابندی کو چھوڑ دیا ہے گو مسلمان کہلاتے ہیں کوئی امتیاز پیدا کر کے نہیں دکھائیں گے نری باتوں سے مظفر و منصور نہیں ہو سکتے۔اگر دنیا میں کامیاب قوم بننا چاہتے ہو تو اصول اسلامی کو اپنا ایسا شعار بناؤ جس طرح صحابہ نے بنا کر دکھایا تھا۔گو اس وقت ہمارے احباب اس بات کو سمجھیں یا نہ سمجھیں کہ زکوۃ کے ایک جگہ جمع ہونے سے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور گوانہیں میری بات اور بھی زیادہ قابل اعتبار اس لئے معلوم نہ ہو کہ ایک لاکھ چالیس ہزار کی آمد کے بالمقابل ایک دو ہزار روپے کی رقم کیا وقعت رکھتی ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کامیابی جسے ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں کبھی ایک تعارف