مالی قربانی ایک تعارف — Page 81
مالی قربانی 81 ایک تعارف ادائیگی زکوة روپیہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے۔کیا اس کو زکوۃ دینی لازم ہے۔فرمایا:۔" نہیں۔" (البدر قادیان ،۲۱۔فروری ۱۹۰۷ء) زکوۃ دین کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے اور حسب شرائط اس کی ادائیگی فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں:۔"سواے وے تمام لوگو جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کیلئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔" پھر حضور فرماتے ہیں:۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹صفحه ۱۵) " چاہیئے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگاوے۔اور بہر حال صدق دکھاوے۔تافضل اور روح القدس کا انعام پاوے کیونکہ یہ انعام ان لوگوں کیلئے تیار ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔" چندہ جات اور زکوۃ (کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۳) حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرماتے ہیں:۔میں سمجھتا ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کے ہر فرد کو اس طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ زکوۃ کے ایک جگہ جمع ہونے سے بڑے بڑے کام مسلمانوں کے چلتے رہے ہیں اور چل سکتے ہیں۔ہمارے سلسلہ کیلئے اسوہ حسنہ وہی صحابہ کا نمونہ ہے جو