مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 83 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 83

مالی قربانی 83 ایک تعارف حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ادائیگی زکوۃ کے اصول پر کار بند ہوکر ہم اس دو ہزار کو لاکھوں نہیں کروڑوں تک نہ پہنچائیں۔جونمو نہ ہمارے سیڈ ومولیٰ حضرت محمد مصطفے اللہ نے ہمیں دکھایا جو راہ خدائے عالم الغیب نے ہمیں بتائی وہی نمونہ اور وہی راہ سب سے زیادہ کامیابی کی راہ ہے۔جو خدا انسانوں کو بناتا ہے وہی قوموں کو بناتا ہے۔اور جو راہ اب ہماری آنکھوں کے سامنے ایک تجربہ شدہ راہ ہے اس سے ہٹنا اور پھر دعویٰ یہ کرنا کہ ہم اسلام کے پیرو ہیں حماقت ہے۔اس لئے میں پھر آپ لوگوں کی خدمت میں یہ التماس کرتا ہوں کہ جس طرح ہمارے نبی کریم نے زکوۃ کے ایک جگہ جمع کر کے تقسیم کرنے کا نمونہ قائم کیا تھا جس طرح خدا کے پاک کلام نے اس کے چند مصارف بتائے تھے اسی طرح جب تک کہ ہمارا سلسلہ اس کو ایک جگہ جمع کر کے انہیں مصارف پر نہیں لگا تا اصول اسلام کے چار اصولوں میں سے ایک عظیم الشان اصل پر وہ کار بند نہیں کہلا سکتا۔جس طرح نمازیں فرض ہیں اور مسجد میں جماعت کے ساتھ فرض ہیں اسی طرح زکوۃ فرض ہے اور اس کا ایک جگہ جمع کر کے تقسیم کرنا اور ان مصارف پر لگا نا جو اس کے لئے قرار دئے گئے ہیں فرض ہے۔پس اس فرض کی ادائیگی کو اسی طرح ضروری سمجھو جس طرح نماز اور روزہ اور حج کی ادائیگی کو ضروری سمجھتے ہو۔" (رپورٹ صدرانجمن احمد یہ ۱۲-۱۹۱۱ء) حضرت خلیفہ امسیح الرابع اس بارہ میں فرماتے ہیں :۔" زکوۃ تو قرآنی حکم ہے۔۔۔۔جہاں بھی ادا کرنے کی شرائط پوری ہوں گی ضرورا دا ہوگی۔" ( مکتوب از مکرم منیر احم جاوید صاحب بنام مکرم ومحترم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب مورخه ۴ فروری ۲۰۰۳ء) اسی طرح حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز زکوۃ کے بارہ میں فرماتے ہیں۔عورتوں پر عموماً زکوۃ فرض ہوتی ہے۔یہاں ان ملکوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے