مالی قربانی ایک تعارف — Page 88
مالی قربانی 88 ایک تعارف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وصیت کرنے والوں کیلئے خدا کے حضور دعا کرتے ہوئے رسالہ الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں:۔ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں تب سے ہمیشہ مجھے یہ فکر رہی کہ جماعت کیلئے ایک قطعہ زمین قبرستان کی غرض سے خریدا جائے۔اس لئے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے۔جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کے لئے تجویز کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنا دے۔اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خوابگاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا۔اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کیلئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔آمین یا رب العالمین۔" پھر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے لئے ہو چکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی ان کے کاروبار میں نہیں۔آمین یا رب العالمین۔پھر میں تیسری دفعہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر کریم اے خدائے غفور و رحیم تو صرف ان لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بدظنی اپنے اندر نہیں رکھتے اور جیسا کہ حق ایمان اور اطاعت کا ہے بجالاتے ہیں اور تیرے لئے اور تیری راہ میں اپنے دلوں میں جان فدا کرچکے ہیں۔جن سے تو راضی ہے اور جن کو تو جانتا ہے کہ وہ بکلی تیری محبت میں کھوئے گئے اور تیرے فرستادہ سے وفاداری اور پورے ادب اور انشراحی ایمان کے ساتھ محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھتے ہیں۔آمین یا رب العالمین۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰۔صفحہ ۳۱۷۳۱۶)