مالی قربانی ایک تعارف — Page 89
مالی قربانی شرائط وصیت 89 ایک تعارف حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کیلئے ایسے شرائط لگا دئیے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہو سکیں جو اپنے صدق اور کامل راستبازی کی وجہ سے ان شرائط کے پابند ہوں ، سو وہ تین شرطیں ہیں، اور سب کو بجالانا ہوگا۔اس قبرستان کی زمین موجودہ بطور چندہ کے میں نے اپنی طرف سے دی سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے۔ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کیلئے چندہ داخل کرے اور یہ چندہ محض انہیں لوگوں سے طلب کیا گیا ہے نہ دوسروں سے۔دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہوگا۔۔۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہوسچا اور صاف مسلمان ہو۔ہر ایک صالح جو اس کی کوئی بھی جائیداد نہیں۔اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا۔اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا۔تو اس قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۸ تا ۳۲۰)