مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 80 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 80

مالی قربانی زیور پر زکوة 80 ایک تعارف زکوۃ ہر قسم کے سونے اور چاندی پر واجب الادا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔"جو زیور پہنا جائے اور کبھی کبھی غریب عورتوں کو استعمال کیلئے دیا جائے بعض کا اس کی نسبت یہ فتویٰ ہے کہ اس کی کچھ زکوۃ نہیں۔اور جو زیور پہنا جائے اور دوسروں کو استعمال کیلئے نہ دیا جائے اس میں زکوۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کیلئے مستعمل ہوتا ہے۔اسی پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنی موجودہ زیور کی زکوۃ دیتے ہیں۔اور جو زیور روپیہ کی طرح جمع رکھا جائے اس کی زکوۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں تحریری فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام مطبوعہ الحکم قادیان، ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ء) مکانات و جواہرات پر کوئی زکوۃ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں کسی شخص کا خط سے سوال پیش ہوا۔کہ میرا پانچ سو روپیہ کا حصہ ایک مکان میں ہے۔کیا اس حصہ میں مجھ پر زکوۃ ہے یا نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: " جواہرات و مکانات پر کوئی البدر قادیان ۱۴۰ / فروری ۱۹۰۷ء) زکوۃ نہیں ہے۔" مکان اور تجارتی مال پر زکوۃ ایک شخص کے سوال کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔مکان خواہ کتنے ہزار روپیہ کا ہو۔اس پر زکوۃ نہیں۔اگر کرایہ پر چلتا ہو۔تو آمد پر زکوۃ ہے۔ایسا ہی تجارتی مال پر جو مکان میں رکھا ہے۔زکوۃ نہیں۔حضرت عمرؓ چھ ماہ کے بعد حساب کر لیا کرتے تھے۔اور روپیہ پر ز کوۃ لگائی جاتی تھی۔" قرض پر زکوة البدر قادیان ۱۴ فروری ۱۹۰۷ ء ) ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا۔کہ جو