مالی قربانی ایک تعارف — Page 79
مالی قربانی 79 راضی کرنے کا نہیں۔کہ مثلاً کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جائے۔اور وہ کہے کہ اچھا اسے منس دیتے ہیں۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں۔کہ باسی اور سری بسی روٹیاں جو کسی کام نہیں آسکتی ہیں۔فقیروں کو دے دیتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں۔کہ ہم نے خیرات کر دی ہے۔ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہیں۔اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے۔وہ تو صاف طور پر کہتا ہے۔لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ - حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی۔جب تک اپنے پیارے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کے لئے خرچ نہ کرو۔اس موقع پر ایک بھائی نے عرض کی۔کہ حضور بعض فقیر بھی کہتے ہیں۔کہ ہمیں کوئی باسی روٹی دے دو۔پھٹا پرانا کپڑا دے دو۔وہ مانگتے ہی پرانا اور باسی ہیں۔فرمایا: تم نئی دے دو گے؟ وہ کیا کریں۔جانتے ہیں۔کہ کوئی نہیں دے گا۔اس لئے وہ ایسا سوال کرتے ہیں۔جہاں تک ہو سکے۔مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کرو۔" معلق مال کی زکوۃ (البدر قادیان، اکتوبر ۱۹۰۸ء) ایک تعارف ایک صاحب نے دریافت کیا۔کہ تجارت کا مال جو ہے۔جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے۔اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے۔اس پر زکوۃ ہے یا نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔" جو مال معلق ہے۔اس پر زکوۃ نہیں۔جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے۔لیکن تاجر کو چاہیئے کہ حیلہ بہانہ سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے۔اور مناسب دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ( الحکم قادیان، ۱۷ جولائی ۱۹۰۷ء، البدر قادیان ، اس جولائی ۱۹۰۷ء) ہے۔" * اگراہی ( ایسا مال جو ابھی قابل وصول ہے )