مالی قربانی ایک تعارف — Page 41
مالی قربانی 41 ایک تعارف ہو تو اس کا خاوند مناسب جیب خرچ مقرر کرے اور وہ اسکی بیوی کی آمد متصور ہو اور اسطرح مالی قربانی کے تسلسل کو قائم رکھنے کی خاطر اس جیب خرچ پر چندہ وصیت ادا کرے۔" (ب) عورتوں کو حسب توفیق رہن سہن کے معیار کے لحاظ سے قربانی کرنی چاہیئے اس لئے عام چندہ دینے والے اور وصیت کے قربانی کے معیار میں جو فرق ہے اس کو بھی زیر غور لانا چاہیئے۔"۔4 مستثنيات آمد میں چندہ دہند کی ہر قسم کی آمد شامل ہے۔البتہ صرف وہ الاؤنس جس کا خرچ کرنا ملا زم چندہ دہند کے تابع مرضی نہ ہو وہ آمد سے مستثنیٰ ہوگا۔اسی طرح گورنمنٹ ڈیوز از قسم ٹیکس ریونیو، مالیہ، لوکل رئیس، لازمی انشورنس وغیرہ جو گورنمنٹ کے حکم سے عائد کئے گئے ہوں نیز وردی الاؤنس اور بچوں کی تعلیم کے لئے ملنے والا لا ونس آمد سے منہا کئے جاسکتے ہیں۔نوٹ۔مکان وغیرہ کے کرائے اور اس قسم کی متفرق چیزیں آمد سے وضع کرنا جائز نہ ہوں گی۔--☆-- اصل آمد کے مطابق بجٹ ایک دوست نے یہ ذکر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم ہے کہ کوئی جتنا چندہ دے سکتا ہے اتنا لکھوادے مثلاً سالانہ آمد ایک لاکھ ہے اور بجٹ لکھوا دیتے ہیں ایک ہزار پر، اس وجہ سے چندہ میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا:۔اس کے آپ خود ذمہ دار ہیں۔آپ اس کی اصل آمد کے مطابق بجٹ بنائیں۔جہلم میں ایک شخص نے یہی کہا تو میں نے کہا کہ اس سے چندہ وصول نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ سات سال سے وہ اپنی اسی بات پر قائم ہے کہ میری جتنی مرضی ہوگی اتنا چندہ دوں گا لیکن ہم نے کہا کہ اس سے چندہ نہیں لینا۔اس لئے جہاں سستی ہوئی ہے وہاں مرکز کی ہدایت میں کوئی خامی نہیں ہے بلکہ مقامی جماعت کے عہد یداروں کے عمل میں ہے۔" (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۷۴ء) ----